25 اکتوبر 2026 - 19:38
3 | نماز استقامت بڑھا دیتی ہے، / قبلہ کی تبدیلی / حالت نماز میں حضرت زکریا(ع) کی دعا

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان نے ایران اور خطے کے مستقبل پر موجودہ تبدیلیوں کے اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا: یہ تصادم ایران کی سرحدوں سے آگے تک، نتائج کا حامل ہو سکتا ہے، اور دیگر قوموں کی قسمت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ اس لئے ایرانی معاشرے کو چاہئے کہ وہ حالات صحیح ادراک کرے، اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھے اور اندرونی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے، شعوری طور پر ذمہ داری کے ساتھ اپنی قسمت کا تعین کرے۔/ موجودہ تصادم ایک فوجی جھڑپ سے بڑھ کر ہے۔ دشمن ایرانی قوم کی مذہبی، تاریخی اور ثقافتی تشخص کو کمزور کرنے اور ایرانی-اسلامی تہذیب کو مٹا دینے کے درپے ہے اور ہمیں ثابت قدمی اور استقامت کے ساتھ ملک کی علاقائی سالمیت، تہذی و ثقافت اور تشخص کا دفاع کرنا چاہئے۔ / دشمن اسلامی-ایرانی تشخص اور تہذیب کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان، بریگیڈیئر جنرل پاسدار حسین محبی نے صوبہ قزوین کے شہر تاکستان میں امامزادہ سید علی موسوی شارینی اسفرورین کے مقدس آستانے میں منعقدہ مسلح افواج کی پہلی صوبائی "نماز کانفرنس" سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی انقلاب کے شہداء، دفاعِ مقدس اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے شہداء، خاص طور پر امامِ شہیدِ امت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (اعلی اللہ مقامہ)، شہید سائنسدانوں اور امریکی-صہیونی کے حملوں کے دیگر شہداء کو  خراجِ تحسین و عقیدت پیش کرتے ہوئے نماز کے مقام اور انسان و معاشرے کی تعمیر میں اس کے کردار پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

تیسری قسط:

• نماز کا دوسرا تزویراتی کردار اللہ کی برکتوں اور رحمتوں کا حصول اور دعا کی قبولیت کا راستہ ہموار کرنا ہے:

• حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بڑھاپے بیوی کے بانجھ پن کے باوجود اللہ سے اولاد کی درخواست کی تاکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان میں رسالت اور نبوت کا سلسلہ جاری رہے۔ انہیں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کی بشارت اس وقت دی گئی جب وہ محراب میں نماز کے لئے کھڑے تھے۔

• مسلمانوں کا قبلہ نماز ہی کے دوران تبدیل ہؤا: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) نبوت کے ابتدائی سالوں میں بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے۔ یہ بات یہودیوں کی مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے کا بہانہ بن گئی تھی اور وہ اسلام کے استقلال کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے تھے۔

• ان ہی حالات میں قبلہ کی تبدیلی کی آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے نماز کے دوران کعبہ کی طرف رخ بدلا۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ دشمن کے شبہات اور نفسیاتی جنگ کا جواب دینا اور اسلامی معاشرے کے استقلال (اور آزادی و خودمختاری) کا اعلان بھی ایک مرحلے میں، نماز سے جڑا ہؤا ہے۔

• امیرالمومنین علی (علیہ السلام) نے نماز کے رکوع میں سائل کو انگوٹھی عطا کی۔ اس واقعے میں، جب ضرورت مند شخص نے مدد کی درخواست کی اور [ادھر ادھر سے] جواب نہ ملا، تو امیرالمومنین (علیہ السلام) نے رکوع کی حالت میں اپنی انگوٹھی اسے بخش دی اور "آیتِ ولایت" (1) نازل ہوئی۔ یہ نمونہ بھی ان مثالوں میں سے ہے جو مذہبی تعلیمات میں نماز کے مقام اور اس کے اثرات کی وضاحت میں زیرِ غور آتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ "إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ؛ تمہارا سرپرست صرف خدا اور اس کا رسول ہے، اور وہ جو ایمان لائے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اور زکوٰۃ دیتے ہیں جبکہ وہ حالت رکوع میں ہوتے ہیں۔" (سورہ مائدہ، آیت 55)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha